تحریر: عادل فراز
حوزہ نیوز ایجنسی| شہیدِ امت، رہبرِ انقلابِ اسلامی، آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کی تدفین 9 جولائی کو مشہد مقدس میں انجام پذیر ہوئی۔ ان کے جنازے کی تشییع نے تاریخ کے کئی نئے باب رقم کیے۔ دشمنوں کو حیران بھی کیا اور اہم پیغامات بھی دیے۔ ایرانی عوام نے اپنے شہید رہبر کو شایانِ شان الوداع کہا۔ لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا ایک نیا باب وا کر دیا۔جس عوام کو انقلاب اور نظام سے متنفر کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے گئے، اور اقتدار کی تبدیلی کی غرض سے اعلیٰ قیادت کو شہید کر دیا گیا، اسی ایرانی عوام نے اپنی بیداری اور استقامت کے ذریعے دشمن کے تمام حیلوں اور پروپیگنڈوں کو خاک میں ملا دیا۔ امریکی صدر بھی ایرانی عوام کی استقامت دیکھ کر انگشت بدنداں نظر آیا اور اس کی بوکھلاہٹ نے اسے دوبارہ ایران پر حملے کے لیے اکسایا۔تدفین کے موقع پر حملہ کر کے دشمن ایرانی عوام کو خوف زدہ کرنا چاہتا تھا، مگر مشہد مقدس میں موجود لاکھوں افراد نے ’’مرگ بر امریکہ‘‘ جیسے نعروں اور ’’ٹرمپ کی موت‘‘ کی خواہش کا اظہار کر کے اپنے عزائم کو واضح کر دیا۔ ایرانی عوام کی اسی استقامت نے ٹرمپ کے حواس باختہ کر دیے، چنانچہ وہ ’’ایکسیوس‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ کہتے ہوئے نظر آیا کہ: ’’میں ان کی (آیت اللہ خامنہ ای) آخری رسومات میں جمِ غفیر کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ مجھے توقع تھی کہ خامنہ ای ایران میں مقبولیت کھو چکے ہیں اور عوام ان سے متنفر ہیں، مگر میں تہران میں جمِ غفیر دیکھ کر ششدر رہ گیا۔‘‘
سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کو یہ خبر کس نے دی تھی کہ آیت اللہ خامنہ ای ایران میں مقبولیت کھو چکے ہیں اور عوام ان سے متنفر ہیں؟ عوامی شکایات اور اپنے مطالبات کو لے کر احتجاج کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ عوام نظام سے متنفر ہیں۔ مہنگائی اور دوسرے مسائل کے خلاف احتجاج عوام کا جمہوری حق ہوتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے عوامی مطالبات کو کبھی ناجائز نہیں ٹھہرایا، بلکہ آخری ایام میں ہونے والے احتجاجات کی حمایت اور شرپسندوں کے فتنے کی مذمت بھی کی تھی ۔کیونکہ احتجاج کے نام پر جو شرانگیزی ہوئی تھی اس کے پیچھے دشمن کی سازشیں کارفرماتھیں ،جس کے حقائق بھی منصہ شہود پر آچکے ہیں۔ایران کے عوام میں مہنگائی جیسے مسائل پر ناراضگی ضرور تھی، مگر اس ناراضگی کو نظام سے تنفر نہیں کہا جا سکتا۔ اگر عوام نظام سے متنفر ہوتے تو آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف سڑکوں پر عوامی سیلاب نظر نہیں آتا۔ بلکہ بعض وہ لوگ ، جو نظام سے ناراض تھے، اعلیٰ قیادت کی شہادت کے بعد شرمندگی کے احساس سے دوچار تھے۔ظاہر ہے، ٹرمپ کے یہ الفاظ واضح کرتے ہیں کہ ایران پر حملہ کرنا اس کی ناعاقبت اندیشی اور غیر عاقلانہ فیصلہ تھا۔ امریکہ، اسرائیل کی اندھی محبت اور اسے تحفظ فراہم کرنے کی فکر میں ایسے دلدل میں دھنستا جا رہا ہے، جس سے نکلنا بہت مشکل ہے۔ البتہ ٹرمپ نے اپنی فطری شیطنت کا ثبوت دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ: ’’شاید ایرانی عوام کے آنسو محض دکھاوا تھے۔‘‘اگر یہ آنسو اور یہ غم محض دکھاوا تھا تو ایرانی عوام کو گھروں سے باہر آنے کی ضرورت کیا تھی؟ ایرانی عوام نے جس طرح سڑکوں پر نکل کر نظام کی حمایت، امریکی آمریت کی مخالفت اور ’’انتقام‘‘ کے نعرے بلند کیے، اس سے مزاحمت ظاہر ہوتی ہے، منافقت نہیں۔
دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو بھی ایرانی عوام کے اتحاد سے خائف نظر آیا۔ اس کے خوف کی بڑی وجہ ایران کی سفارتی کامیابی تھی۔ آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں سو سے زائد ملکوں کی نمائندگی نے اس کامیابی کو مزید نمایاں کر دیا۔ آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کر کے دشمن یہ تصور کر رہا تھا کہ اس نے ایران کو سفارتی سطح پر بھی تنہا کر دیا ہے، مگر نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا۔ آج عالمی حمایت ایران کے ساتھ ہے اور دنیا امریکی و اسرائیلی جارحیت کے خلاف کھڑی نظر آتی ہے۔بعض وہ حکومتیں، جو امریکہ کی حلیف سمجھی جاتی ہیں، انہوں نے جنازے میں شرکت سے دوری اختیار کی، مگر ان کی یہ دوری عالمی رائے کو بدل نہیں سکتی۔ ایران سمیت پوری دنیا بخوبی جانتی تھی کہ امریکہ کے حلیف ممالک ان مراسم میں شریک نہیں ہو سکتے، اس لیے ان کی عدم شرکت سے کسی کو حیرانی نہیں ہوئی۔
امریکہ کو بھی اب شدت کے ساتھ یہ احساس ہو رہا ہے کہ اسرائیلی حمایت نے اس کی مٹی پلید کر دی ہے۔ بسا اوقات یہ درد امریکی عہدیداروں کی زبان پر بھی آ جاتا ہے۔ چونکہ اسرائیل امریکہ کی ناجائز اولاد ہے، اس لیے وہ اعلانیہ اس درد کو بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں، مگر جب درد کی ٹیسیں بڑھ جاتی ہیں تو کراہیں دنیا سنتی ہے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جب یہ کہتے ہیں کہ: ’’اب اسرائیل کا کوئی طاقت ور اتحادی نہیں‘‘ تو وہ اس ایک جملے کے ذریعے جہاں اسرائیل کی سفارتی تنہائی کو بیان کرتے ہیں، وہیں اپنے درد کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ایسی تنہائی کے عالم میں بھی امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونا پڑ رہا ہے۔اسرائیل چونکہ کسی کا وفادار نہیں، حتیٰ کہ اپنے ناجائز باپ کو بھی آنکھیں دکھلاتا رہتا ہے، اسی بنا پر نتن یاہو نے جے ڈی وینس کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’’امریکی نائب صدر غلطی پر ہیں، ہندوستان میں اسرائیل کو زبردست حمایت حاصل ہے۔‘‘جے ڈی وینس نے تو نتن یاہو کے اس بیان کا جواب نہیں دیا، کیونکہ ہندوستانی حکومت بیک وقت اسرائیل نواز بھی ہے اور امریکی دباؤ میں بھی۔ البتہ جے ڈی وینس، ٹرمپ اور خود نتن یاہو بھی بخوبی جانتے ہیں کہ حکومتوں کا موقف کبھی عوامی رائے کا اظہار نہیں ہوتا۔اگر نتن یاہو وزیر اعظم مودی کی حمایت کی بات کر رہے تھے تو اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مودی حکومت اسرائیل نوازی میں سب پر سبقت لیے ہوئے ہے۔ چونکہ ہندوستان میں آر ایس ایس اقتدار میںہے جس کی صہیونیت نوازی جگ ظاہر ہے، لہٰذا حکومت کی اسرائیل کو دی جانے والی حمایت پر کسی کو حیرانی نہیں ہوتی، لیکن ہندوستانیوں کا موقف سرکار کے برخلاف ہے ۔
نتن یاہو کی اس خوش فہمی پر کانگریس نے پانی پھیردیا۔کانگریس نے کہا: ’’اس میں شک نہیں کہ اسرائیل مودی حکومت میں گہرائی تک سمایا ہوا ہے اور وزیر اعظم مودی اس سے اندھی عقیدت رکھتے ہیں، لیکن کروڑوں ہندوستانی ایسا نہیں سوچتے۔ وہ غزہ میں اسرائیل کے ذریعے کی جا رہی نسل کشی کی مذمت کرتے ہیں، جس میں بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔‘‘کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رابطۂ عامہ کے ترجمان جے رام رمیش نے وزیر اعظم مودی کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایوارڈ کے بھوکے خودساختہ وشو گرو کی اسرائیل کے اقدامات پر خاموشی، ہندوستان کے تہذیبی ورثے اور اقدار سے غداری ہے، یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔‘‘کانگریس کے اس مذمتی بیان کے بعد بھی اگر نتن یاہو ہندوستانیوں کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سفارتی تنہائی نے ان کا دماغی توازن کھو دیا ہے۔
اس وقت ہندوستانی حکومت کاحال یہ ہے کہ وہ سفارتی کشمکش میں مبتلا ہے۔ پہلے تو حکومت پوری طرح اسرائیل کے ساتھ کھڑی تھی، کیونکہ وزیر اعظم مودی کو یہ باور کرا دیا گیا تھا کہ ایران چند دن میں فتح ہو جائے گا۔ مگر جب جنگ ایک ہفتے سے آگے بڑھنے لگی اور امریکہ جیسی نام نہاد طاقت کے پسینے چھوٹنے لگے تو وزیر اعظم کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ آناً فاناً میںسرکار نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کے لیے خارجہ سکریٹری وکرم مسری کو ایرانی سفارت خانے روانہ کیا، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ایران نے بھی ہندوستان کے کئی سفارتی امتحان لیے۔ آخری امتحان اس وقت ہوا جب آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے لیے وزیر اعظم مودی کو دعوت نامہ بھیجا گیا۔ وزیر اعظم کو ہرگز یہ توقع نہیں تھی کہ دعوت نامہ براہِ راست ان کے نام آئے گا، لہٰذا سفارتی آبرو کے تحفظ کے لیے حکومت کو ایک وفد تہران روانہ کرنا پڑا۔ جس حکومت نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیتی کلمات تک نہیں کہے، اسی کو تہران وفد بھیجنا پڑ گیا۔ اب اسے ایران کی سفارتی کامیابی کہیں یا ہندوستان کی سفارتی ناکامی۔ایرانی قوم کی ذہانت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ سرکار نے جنازے کی تشییع کے لیے اسی دن کا انتخاب کیا، جس دن امریکہ میں یومِ آزادی کی دوسو پچاسویں سالگرہ منائی جا رہی تھی۔ اسے عام زبان میں ’’رنگ میں بھنگ‘‘ ڈالنا بھی کہہ سکتے ہیں۔دوسرے یہ کہ جنازے میں شرکت کے لیے آئے ہوئے وفود کی مناسبت سے قرآنِ مجید کی آیات کا انتخاب کیا گیا تھا، جس کے ذریعے قرآنِ مجید سے اپنی انسیت کے اعلان کے ساتھ تمام شریک ملکوں اور وفود کو اہم پیغامات بھی دیے گئے۔
تہران سے عراق تک آیۃ اللہ خامنہ ای کے جنازے نے تاریخ رقم کی ۔یہ پہلا ایساجنازہ تھاجس کی تشییع دوسرے ملک میں ہوئی اور عوام سیلاب کی طرح امڈ پڑی ۔امریکہ نے عراقی عوام کو انقلابِ اسلامی سے بدگمان کرنے کے لئے نہ جانے کتنے جتن کئےمگر سب بے سود ثابت ہوئے ۔شکست کی اسی بوکھلاہٹ نے امریکہ کو مذاکرات کے لئے ’مفاہمتی یادداشت پر دستخط ‘ کے باوجودایران پر حملہ کرنے کے لئے مجبور کردیا۔عوام تدفین میں شرکت کرنے کے لئے اس حال میں پہنچے کہ ایران پر شدید بمباری ہورہی تھی، حتیٰ کہ تہران سے مشہد کےجانے والے ریلوے ٹریک کو بھی اُڑادیاگیاتھا۔اس کے باوجود ایرانی عوام بے خوف آیۃ اللہ خامنہ ایؒ کو رخصت کرنے کے لئے مشہد پہنچے ۔حقیقت یہ ہے کہ جب کسی قوم کا اللہ کی ذات پر بھروسہ ہوتاہے تو وہ کسی طاقت سے خوف زدہ نہیں ہوتی ۔بہرحال! ایک تاریخ ساز لیڈر کے الوداعی رسومات نے بھی تاریخ رقم کی ۔الوداع شہیدِ اُمت!









آپ کا تبصرہ